حضرت علی کے اقوالِ زریں دوسرا حصہ



السلام علیکم


حصرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے ارشادات ،اقوال ،نصیحت ،وعظ ،عمل کمالات ،علم , معرفت ،ایمان ،تقویٰ ، توکل ، قنا عت ، صبر و شکر ، بندگی ،اطاعت ،سخاوت ،عبادت ، عجز و انکساری ، حکمت ،دانائی ، ایثار و قربانی ایک عام انسان کی سوچ سے بالا تر ہے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے “میں علم کا شہر ہوں ،اور علی اس کا دروازہ ہے ۔


آج میں نے تصوف میگزین پڑھا تو یہ حضرت علی کے اقوال پڑھے ہیں تو پھر ایک بار آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کرنے طبعیت آمادہ و بے چین ہوئی ۔ اس امید کے ساتھ یہ اقوال شیئر کررہی ہوں کہ شاید ہم میں سے کوئی ان اقوال کی روشنی سے فیض یاب ہوسکے ، اللہ ہمیں عمل کرنے میں اپنی خاص مدد فرمائے ۔۔۔


حضرت علی مر تضٰی رضی اللہ عنہ کے اقوال ملاحظہ فرمائے

پریشانی خاموش رہنے سے کم ،صبر کرنے سے ختم اور شکر کرنے سے خوشی میں بدل جاتی ہے۔

جو تمہیں غم کی شدت میں یاد آئے تو سمجھ لو کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے۔

کبھی کسی کے سامنے صفائی پیش نہ کرو،کیوں کہ جسے تم پر یقین ہے ، اسے ضرورت نہیں اور جسے تم پر یقین نہیں وہ مانے گا نہیں۔

ہمیشہ سچ بولو کہ تمہیں قسم کھانے کی ضرورت نہ پڑے ۔

انسانوں کے دل وحشی ہیں جو انہیں موہ لے ، اسی پر جھک جاتے ہیں۔

جب عقل پختہ ہوجاتی ہے ،باتیں کم ہوجاتی ہیں۔

جو بات کوئی کہے تو اس کے لئے ُبرا خیال اس وقت تک نہ کرو، جب تک اس کا کوئی اچھا مطلب نکل سکے۔

دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے کہ چھونے میں نرم اور پیٹ میں خطرناک زہر۔۔

کسی کے خلوص اور پیار کو اس کی بے وقوفی مت سمجھو ، ورنہ کسی دن تم خلوص اور پیار تلاش کروگےاور لوگ تمہیں بے وقوف سمجھیں گے ۔

جو بھی برسر اقتدار آتا ہے ، وہ اپنے آپ کو دوسروں پر ترجیح دیتا ہے۔

بھوکے شریف اور پیٹ بھرے کمینے سے بچو ۔


لوگوں کو دعا کے لئے کہنے سے زیادہ بہتر ہے ایسا عمل کرو کہ لوگوں کے دل سے آپ کے لئے دعا نکلے۔

مومن کا سب سے اچھا عمل یہ ہے کہ وہ دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کردے ۔

سب سے بڑاعیب یہ ہے کہ وہ دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کردے ۔

سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ تم کسی پر وہ عیب لگا ؤ جو تم میں خود ہے۔

جو ذرا سی بات پر دوست نہ رہے ، وہ دوست تھا ہی نہیں ۔

جس کو ایسے دوست کی تلاش ہو ، جس میں کوئی خامی نہ ہو ، اسے کبھی بھی دوست نہیں ملتا ۔

انصاف یہ نہیں کہ بد گمانی پر فیصلہ کردیا جائے ۔

حکمت مومن کی کھوئی ہوئی چیز ہے ، حکمت خواہ منافق سے ملے لے لو ۔

کسی کی مدد کرتے وقت اس کے چہرے کی جانب مت دیکھو ، ہوسکتا ہے اس کی شرمندہ آنکھیں تمہارے دل میں غرور کا بیج بودیں ۔

صبر کی توفیق مصیبت کے برابر ملتی ہے ،اور جس نے اپنی مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارا ، اس کا کیادھرا اکارت گیا ۔

موت کو ہمیشہ یاد رکھو ، مگر موت کی آرزو کبھی نہ کرو ۔

قناعت وہ دولت ہے جو ختم نہیں ہوسکتی

شعور تعلیم نہیں تربیت دیتی ھے؟

کون کہتا ھے کہ تعلیم انسان کو شعور دیتی ھے؟ اگر تعلیم شعور دیتی تو روزانہ سڑکوں پر تعلیم یافتہ لاکھوں لوگ سڑکوں کے بیچ میں گاڑیاں کھڑی کر تے نظر نہ آتے؟ آپ نے *تعلیم اور شعور* کا فرق دیکھنا ھو تو سڑکوں پر روزانہ سکول اور دفتری اوقات میں دیکھ سکتے ہیں جہاں اعلا تعلیم یافتہ افراد پروفیسرز اور ڈاکٹرز تین رویہ سڑک پر ہمیشہ تیسری رو میں گاڑیاں چلاتے نظر آئیں گے جبکہ پہلی دو لائینیں خالی بھی ھوں تب بھی۔
میں اکثر سڑکوں پر *تعلیم اور شعور* کو خوب انجوائے کرتا ھوں جب میں پہلی یا دوسری خالی رو میں سکون سے ڈرائیو کرتا گزر جاتا ھوں مگر تعلیم یافتہ بے شعور لوگوں کو تیسری رو میں ایک دوسرے کے پیچھے ھارن بجاتے دیکھتا ھوں؟

آپ روزانہ سوشل میڈیا پر لاکھوں بے شعور پڑھے لکھے لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں جو اپنے اپنے خداؤں یا پارٹی لیڈران کے دفاع میں اپنے رشتوں کے تقدس کو بھی اپنے پیروں کے نیچےمسلتے نظر آتے ہیں.
جبکہ شعور اچھی تربیت دیتی ھے.
میں نے ذیادہ تر بے شعور پڑھے لکھے دیکھے ہیں اور بہت سے با شعور ان پڑہ دیکھے ہیں؟
*شعور کا تعلق اگر تعلیم سے ھوتا تو پڑھی لکھی لڑکیاں گھروں سے نا بھاگتی نظر آتی؟ نہ پڑھے لکھے کالج اور یونیورسٹیوں کے بچے غلط راستوں پر چلتے نظر آتے*
تعلیم اچھے مستقبل کی ضامن تو ھوسکتی ھے مگر ایک انسان کو شعور نہیں دے سکتی. شعور صرف تربیت دیتی ھے.
*شعور ھوتا کیا ھے؟ شعور اچھائی اور برائی صحیح اور غلط کے فرق میں تمیز کا معیار شعور کہلاتا ھے.*
آج اگر تعلیم شعور دیتی تو ہمیں اسمبلیوں میں پڑھے لکھے بھیڑئے اور ٹھگ نظر نہ آتے۔
آج اکر تعلیم شعور دیتی تو ہمیں اپنی عدالتوں میں عدل کا خون کرتے قاضی نظر نہ آتے۔
اگر تعلیم شعور دیتی تو ہمیں ہسپتالوں میں مسیحاؤں کے روپ میں بھیڑیئے نظر نہ آتے۔
اگر تعلیم شعور دیتی تو ہمیں عدالتوں میں کالے کوٹ میں چھپے انسانوں کے سوداگر نظر نہ آتے۔
اگر تعلیم شعور دیتی تو سیاستدانوں کے روپ میں شعبدہ باز نظر نہ آتے۔
اگر تعلیم شعور دیتی تو ہمارے سپاہ سالارز گھوڑوں اور گدھوں کی ٹریڈنگ کر کے ملک کی معیشت کو تباہ کرتے نظر نہ آتے۔
اگر تعلیم شعور دیتی تو ہمارے ملک کے سب ادارے اپنے اپنے کاموں کی نا اھلی کو چھپانے کے لیے دوسرے اداروں کے کام میں روڑے اٹکاتے نظر نہ آتے۔
اگر تعلیم شعور دیتی تو سانحہ ساھیوال جیسے واقعات رونما نہ ھوتے۔
اگر تعلیم شعور دیتی تو پولیس کی وردی کو داغدار کرنے والے ضمیر فروش نظر نہ آتے۔
*مگر کاش تعلیم شعور بھی دے سکتی؟*

میں نے پانچ پانچ، چھ چھ پڑھے لکھے ڈاکٹرز اور انجینئیز، پروفیسرز کے والدین کو بڑھاپے میں بچوں کی ذیادتیوں کا رونا روتے دیکھا ھے مگر میرا ان سے یہی کہنا ھے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم تو دلوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی مگر کاش وہ اچھی تربیت بھی دے سکتے تو آج گلے شکوے کرتے نظر نہ آتے؟ آج کے بوڑھے ماں باپ نے کل اپنے ماں باپ بڑوں کے ساتھ سلوک اور معاشرے میں ظلم و ذیادتی کا بچوں کو جو سبق پڑھایا تھا وہی سبق وہی تربیت آج ان کے سامنے آتی نظر آرہی ھے.
آج پڑھے لکھے بے شعور والدین سڑکوں پر بچوں کے سامنے گالم گلوچ اور ٹریفک کی خلاف ورزیاں معاشرے میں ظلم و ذیادتی کی مثالیں قائم کر کے اپنے بچوں کو کیا شعور دے رہے ہیں؟
آج پڑھے لکھےسکولوں کے اساتذہ بچوں کو پیٹتے نظر آتے ہیں صرف اسی لیے کہ انہوں نے تعلیم تو حاصل کر لی مگر تربیت نے ان کے کردار سے شعور کو مار ڈالا؟
*اگر تعلیم شعور دیتی تو والدین اپنی بچیوں کو تعلیم کے لیے گھر سے نکالتے وقت خوفزدہ نظر نہ آتے؟*

*اگر تعلیم شعور دیتی تو 10، 10 پڑھے لکھے بیٹوں کے والدین بڑھاپے میں لاوارث پڑے نظر نہ آتے؟*
کاش ہم اپنے بچوں کی اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے کردار کے ذریعے اچھی تربیت کا بھی خیال رکھیں تو ہم اپنے گھراپنے ملک کو جنت بنا سکتے ہیں؟

*مگر کاش ؟*

معاہدہ گندمک: افغان تاريخ کا ایک سیاہ باب – – حرف اخر === غیرتمند پشتونوں کو ھمیشہ ان کے اپنے لیڈروں نے ذلیل کیا. پشتون لیڈروں کی اکثریت اپنے قوم کی غداروں کی ہے. کرسٹینا لیمب===

ھندوستان کی جنگ آزادی 1857 کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی سے اقتدار برطانوی حکومت کو منتقل ہوئی. 1876 کو برصغیر کے سرزمین پر پاؤں رکھے بغیر ملکہ وکٹوریہ ملکہء ھند Empress آف India بن گئی.
ساٹھ کی دہائی میں مغربی سرحد برطانوی حکومت کیلئے تازہ خدشات کی باعث بنی. تاشقند اور سمرقند کی فتح کیساتھ زار روس آمو دریا Oxus River تک پہنچ گیا. 1863 میں امیر دوست محمد خان کی وفات پر کابل ایسے سیاسی بحرانوں کی شکار تھی جو برطانوی ھند کی حکومت کیلئے باعث تشویش تھے. 1878 کے موسم گرما میں جب برطانیہ اور روس کے درمیان روابط کافی معاندانہ صورت اختیار کرچکے تھے. ایک غیر دعوت شدہ روسی وفد کابل آئی. افغانستان کے نئے بادشاہ امیر شیرعلی خان نے وفد کو کابل چھوڑنے کا کہا، تاہم کچھ روسی کابل میں باقی رہے. انہی روسیوں کے افغانستان میں قیام کے ردعمل میں برطانیہ اپنی سفارتی مشن افغانستان پر مسلط کرنے کیلئے بضد تھی. امیر شیر علی خان دونوں سامراجی طاقتوں کی مداخلت سے ناخوش تھا. تین ستمبر 1878 کو سر نیول چمبرلین Sir Neville Chamberlain کے کمانڈ میں فوجی طاقت کیساتھ ایک وفد نے افغانستان داخل ہونے کی کوشش کی جسے خیبر کے قبائلی پشتونوں نے واپس بھگایا. یہی واقعہ معاہدہ گندمک اور دوسرے افغان جنگ Second Afghan War کا سبب بنا.
برطانوی حکومت نے امیر شیر علی خان کو الٹی میٹم دی:
1) سر نیول چمبرلین کی مشن کو مسترد کرنے سے برطانوی حکومت کی بے عزتی ھوئی ہے. حکومت افغانستان اس کیلئے معافی مانگے؛
2) کابل میں مستقل انگریزی مشن کی قیام کی اجازت دی جائے؛ یا
3)دونوں شرائط کی عدم قبولیت کی شکل میں افغانستان جنگ کیلئے تیار ھوجائے.
اس نازک صورتحال میں امیر شیرعلی نے افغانستان میں برطانوی مشن کی قیام کی اجازت پر رضامندی ظاہر کی. تاہم اس کے ردعمل انگریزوں کے پاس پہنچنے سے قبل انگریزوں کی دی گئی ڈیڈ لائن پوری ہوچکی تھی اور 21 نومبر 1878 کو تین برطانوی لشکروں نے افغانستان پر چڑھائی کیلئے اپنی راہ لی تھی: جنرل سٹورٹ General Stewart کی سربراہی میں ایک لشکر جنوب سے قندھار پر حملہ آور ھوگی، جنرل رابرٹس General Roberts چھ ہزار پانچ سو 6,500 فوج کیساتھ کرم سے حملہ کرے گا، جبکہ بڑا حملہ جنرل سام براؤن General Sam Browne کی زیر قیادت جمرود میں تیار 15000 فوج کیساتھ درہ خیبر سے ھوگا.
جنرل براؤن علی مسجد تک پہنچ گیا. یہاں پشتون قبائل آفریدی اور شینواریوں نے شگئی کے مقام پر انگریز فوج پر حملہ کیا جو “علی مسجد کی لڑائی” کے نام سے مشہور ہے. ناکامی پر کچھ انگریز فوج دوسری طرف سے پہاڑوں پر روانہ ہوئے. عام تلوار اور کچھ دقیانوسی بندوقوں کیساتھ قبائلی جنگجوؤں نے وہاں بھی مزاحمت کی. تاہم شلوار قمیض اور پگڑیوں میں ملبوس سادہ مگر باحوصلہ اور غیرتمند پشتونوں کے پشت پر نہ کوئی منظم حکومت تھی نہ ان کیساتھ توپوں کی طاقت تھی. مسلسل توپوں کی گولہ باری سے خستہ ھوکر بالآخر پشتون قبائلی ناکام ہوئے. انگریز علی مسجد کے راستے آگے گئے. جنرل براؤن کے پولیٹیکل افسر میجر لوئی کیویگنری Louis Cavagnari نے اپنی ذہنی پھرتی اور چالاکی سے فوج کو انتہائی سریع پیش قدمی پر مجبور کیا تاکہ سردی کے آغاز کیساتھ برطانوی فوج اس سرد و سنگلاخ مقام سے نکل جائے. بھرے مونچھوں والا دبلا پتلا مگر تیز ذہن کا مالک جوان میجر لوئی کیویگنری معاہدہ گندمک کا اصل بنیانگزار تھا.
سال کے اختتام پر انگریز فوج جلال آباد پہنچ گئی تھی. مگر سردی اور حالات کی غیر یقینی ھونے سے سراسیمگی کی شکار تھی. امیر شیر علی خان فوت ھو چکا تھا اور امیر یعقوب خان نیا افغان بادشاہ مقرر ہوا تھا. امیر یعقوب خان اپنے کمزرو کیریکٹر سے اور میجر کیویگنری، سرکش پشتونوں کے سرکش پہاڑوں میں غیر یقینی صورت سے سلامت نکلنے کیلئے، اپنی چالاکی بروئے کار لا کر کسی معاہدے پر پہنچنے کیلئے شائق تھے. مئی 1878 کو گندمک کے مقام پر یعقوب خان اور میجر کیویگنری ایک معاہدہ کیلئے بیٹھ گئے جس کے تحت جنگ کو منسوخ کرکے امیر یعقوب خان نے سالانہ 60,000 پاؤنڈ سبسڈی کے عوض مندرجہ ذیل ذلت آمیز شرائط پر 26 مئی کو دستخط کی:
آرٹیکل، 1. افغانستان کی خلاف برطانوی سامراج کیلئے جاسوسی اور کام کرنے والے تمام افغانی سرداروں کو کچھ نہیں کہا جائے گا اور ان کی املاک اور خاندان امن سے رہیں گے.
2. افغان حکومت اپنی خارجہ پالیسی حکومت برطانیہ کے خواہشات اور تائید سے وضع کریگی.
3. انگریز ریذیڈنٹ کو شایان شان رہائشگاہ اور حفاظتی انتظامات کیساتھ کابل میں رہنے کی اجازت دی جائے گی.
4. افغانستان میں برطانوی تجارتی سرگرمیوں کیلئے مکمل اجازت حوالے سے ایک مخصوص معاہدہ ہوگی.
7. برطانوی حکومت کو کرم سے کابل تک ٹیلیگراف لائن بچھانے کی اجازت ھوگی…… قابل ذکر ھے کہ تمام پشتونوں کے برعکس کرم کے شیعہ قبائل طوری اور بنگش انگریزوں کے وفادار تھے.
8. خیبر اور مچنی کا علاقہ مکمل حکومت برطانیہ کا حوالہ کیا جائے گا.
9. پشین اور سبی تک کا علاقہ مستقل طور پر برطانوی حکومت کا ھوگا.
امیر یعقوب خان نے تمام پشتون، اسلامی اور افغانی روایات کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ان تذلیل آمیز شرائط کو قبول کیا!
معاہدے کے دونوں طرفہ قبولیت پر میجر لوئی کیویگنری، جولائی میں سر لوئی Sir Louis بن کر کابل میں برطانوی ریذیڈنٹ بن گیا. جرنل سٹورٹ اور جرنل براؤن واپس برطانوی ھند کیلئے روانہ ہوئے. تاہم پشتون امیر یعقوب خان کے معاہدے سے آگ بگولا ھوگئے. چالیس دن بھی نہیں گزرے تھے. کہ پشتونوں کی رگ حمیت بھڑک اٹھی. ستمبر کے مہینے میں تلواروں، پرانے جزائل بندوقوں اور لاٹھیوں سے پشتونوں نے برطانوی ریذیڈنسی پر حملہ کیا. ریذیڈنسی پر مامور افغان حفاظتی اہلکاروں سمیت ریذیڈنٹ سر لوئی کیویگنری کو قتل کیا. تمام ریذیڈنسی کو آگ لگائی. جو بازی امیر یعقوب خان حکومتی سطح پر ہار گیا تھا، پشتونوں نے خود اس کا بدلہ لیا!
اس وقت افغانستان میں صرف کرم ایجنسی کے جنرل رابرٹس کچھ برطانوی، سکھ اور شیعہ ملیشیا کے ساتھ موجود تھا. دوسری افغان جنگ شروع ہوئی. کوتاہ قد مگر جذباتی جنرل رابرٹس نے بقول خود ریذیڈنسی پر حملہ کے مرتکب 87 پشتونوں کو پھانسی دی. افغان حکومت اور امیر یعقوب خان ان غیرتمند پشتونوں کے لاشوں کو کابل کے درختوں اور عمارتوں سے آویزاں دیکھتے رہے. جنرل رابرٹس نے توپوں کیساتھ کئی حریت پسند پشتون قبائل کا تعاقب اور شیرپور میں محاصرہ کیا. جنرل سٹورٹ بھی قندھار پہنچ گیا اور استحکام تک مستقل قیام کی ٹھان لی . پشتونوں کے غدار امیر یعقوب خان کو اس جرم میں برطرف کیا گیا کہ وہ ریذیڈنٹ سر لوئی کیویگنری کے حفاظت میں ناکام رہا. برطانوی سامراج نے مئی 1880 میں تعجب آمیز طور پر روسی روابط رکھنے والا امیر عبدالرحمن افغانستان کا نیا بادشاہ تسلیم کیا.
بارہ فروری دو ہزار چار کی شام ایک عشائیے میں جرنل نصیر اللہ خان بابر نے راقم کو بتایا کہ افغان کمانڈر گلبدین حکمت یار جنگی نقشوں کیساتھ اس کو پشتونوں علاقوں میں پشتونوں پر حملوں کیلئے پلان لاتا اور پاکستان سے حملوں پر مجبور کرتا. ایسے ضمیر فروش اور غدار پشتون غدار انسانیت دنیا کے کسی بھی قوم میں نہیں ملتے جو پشتونوں میں ہیں. تاہم یہ تاریخ کے انتقام سے نہیں بچ سکتے. افغانستان کی حسینہ واجد ابھی آنے کو ہے!
سادہ، فاقہ زدہ، خستہ حال مگر غیر تمند پشتونوں نے ھمیشہ اپنے خودداری اور وطن و قوم کی ناموس کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا. اور ان کے لیڈروں، سرداروں اور امیروں نے کبھی بھی ان کو سستے داموں بیچنے میں دیر یا سستی نہیں کی.
امریکی صدر جمی کارٹر کے زیر صدارت وہائٹ ہاؤس میں افغان مسئلے پر ھنگامی اجلاس ھورہی تھی. نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر زبیگنیو بریزیزنسکی Zbigniew Brezezinski, سکریٹری دفاع ھیرالڈ براؤن Harold Bown, سی آئی اے کی ڈپٹی ڈائریکٹر فرینک کارلوسائی Frank Carloci, سیکرٹری آف سٹیٹ سائرل وینس Cyril Vance سر جوڑ کے بیٹھے تھے کہ افغان میں نیشنلسٹوں اور اشتراکیت پسندوں کو کیسے ختم کیا جائے؟ ایک صاحب نے کہا “جماعت اسلامی پاکستان ھے تو سب کچھ ھوجائے گا” . ایک نے کہا “افغان لیڈر ڈالز پر ماں بہن فروخت کرتا ہے” . بریزیزنسکی خاموش بیٹھا تھا. سب کو سننے کے بعد بولا، “جب تک افغانی کے مقعد میں مذہب کی بتی ھے اور ھمارے ہاتھ میں ڈالر ہے افغانستان میں سب کچھ آسان ہے.” ختم شد
رشید یوسفزئی

‏کچھ نوجوانوں کا سوچ ہیں کہ شادی کی پہلی رات خون نہ نکلا تو لڑکی “چالو” ہے۔پری زاد ۔۔یونیورسٹی کالجز میں دنیا کے سب سے زیادہ زنا وغیرہ ہوتے ہیں۔۔اس تحریر میں آپ کو اس طبقے کی سوچ دکھاتی ہوں کہ شادی کو اور بیوی کو یہ کیا سمجھتے ہیں۔۔ایک ایسی قسم ہے جو شادی کی پہلی رات خون نہ نکلنے پر اپنی ہی بیوی کو ” چالو” سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ حالانکہ یہ وہ نوجوان ہوتے ہیں جن کی ساری عمر غلط کاریوں میں بھی گزری ہے۔ اب شادی ہوئی ہے تو ان کے نزدیک بیوی ” سیل پیک” ہونی چاہیے اور اس کے لیے انھوں نے جو معیار طے کیا ہے وہ ہے “خون کا نکلنا۔” ان لوگوں کو ‏سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بچپن یا لڑکپن میں کھیل کود کے دوران یا سیڑھیوں سے گر کر، یا رسہ کودتے ہوئے، سائیکل چلاتے ہوئے وہ باریک سی جھلی جس کے ہٹنے سے خون نکلتا ہے وہ جھلی پھٹ سکتی ہے۔۔لہذا اگر پہلی رات خون نہیں نکلا تو یہ لازمی نہیں کہ آپ کی بیوی بددار ہے یا اگر خدانخواستہ وہ پہلے نہ نکلنے پر اپنی ہی بیوی کو ” چالو” سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ حالانکہ یہ وہ نوجوان ہوتے ہیں جن کی ساری عمر غلط کاریوں میں بھی گزری ہے۔ اب شادی ہوئی ہے تو ان کے نزدیک بیوی ” سیل پیک” ہونی چاہیے اور اس کے لیے انھوں نے جو معیار طے کیا ہے وہ ہے “خون کا نکلنا۔” ان لوگوں کو ‏سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بچپن یا لڑکپن میں کھیل کود کے دوران یا سیڑھیوں سے گر کر، یا رسہ کودتے ہوئے، سائیکل چلاتے ہوئے وہ باریک سی جھلی جس کے ہٹنے سے خون نکلتا ہے وہ جھلی پھٹ سکتی ہے۔۔لہذا اگر پہلی رات خون نہیں نکلا تو یہ لازمی نہیں کہ آپ کی بیوی بددار ہے یا اگر خدانخواستہ وہ پہلے ‏کسی سے ایسا عمل کروا چکی ہے تو وہ جانے اللہ جانے۔۔وہ آپ کو جوابدہ آپ کے نکاح میں آنے کے بعد کی ہے۔پہلے کی نہیں۔۔پہلے کے بارے آپ کو اتنے شبہات تھے تو تفتیش کر کے شادی کرتے۔۔نا کہ اب اس کا جینا حرام کرو۔سب سے بڑی بات۔۔کیا تم خود کنوارے ہو؟دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو شادی کی پہلی ‏رات بیوی کو زیادہ سے زیادہ تکلیف دینے کو “مردانگی” سمجھتے ہیں۔۔ان کے نزدیک اگر پہلی رات ہم بستری کے دوران بیوی کو تکلیف کی شدت سے رونے پر مجبور نہ کیا تو ان سے بڑا “مرد” کوئی نہیں۔۔اگر ایسا ہو بھی جائے تو اگلے دن دوستوں کو بڑھ چڑھ کر قصے سناتے پائے جاتے ہیں۔۔اگر آپ کسی ‏ہسپتال کی ایمرجنسی میں کام کرتے ہیں یا آپ کا کوئی جاننے والا کام کرتا ہے تو آپ کو علم ہو گا کہ ہر ماہ ایک یا دو کیسسز ایسے لازمی آتے ہیں کہ شادی کی پہلی رات درد کی شدت لڑکی برداشت نہیں کر سکی اور اس کی حالت غیر ہو گئی ان “سُورمے ” مردوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ عورت بھی انسان ہے ‏اس کی بیوی بھی کسی کی بہن بیٹی ہے اگر وہ اس عمل سے ابھی یوز ٹو (عادی) نہیں ہو پا رہی تو اسے کچھ وقت دو۔۔۔بے شک چند دن دے دو۔۔لازمی نہیں پہلی رات ہی یہ “ایگزام ” لینا ہی لینا ہے۔۔بندہ خدا! اسے اس عمل کے دوران بالکل ویسا ہی درد ہوتا ہو گا جیسے مار پیٹ کا درد ہو۔۔ہر عورت ہر لڑکی کی ‏کسی سے ایسا عمل کروا چکی ہے تو وہ جانے اللہ جانے۔۔وہ آپ کو جوابدہ آپ کے نکاح میں آنے کے بعد کی ہے۔پہلے کی نہیں۔۔پہلے کے بارے آپ کو اتنے شبہات تھے تو تفتیش کر کے شادی کرتے۔۔نا کہ اب اس کا جینا حرام کرو۔سب سے بڑی بات۔۔کیا تم خود کنوارے ہو؟دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو شادی کی پہلی ‏رات بیوی کو زیادہ سے زیادہ تکلیف دینے کو “مردانگی” سمجھتے ہیں۔۔ان کے نزدیک اگر پہلی رات ہم بستری کے دوران بیوی کو تکلیف کی شدت سے رونے پر مجبور نہ کیا تو ان سے بڑا “مرد” کوئی نہیں۔۔اگر ایسا ہو بھی جائے تو اگلے دن دوستوں کو بڑھ چڑھ کر قصے سناتے پائے جاتے ہیں۔۔اگر آپ کسی ‏ہسپتال کی ایمرجنسی میں کام کرتے ہیں یا آپ کا کوئی جاننے والا کام کرتا ہے تو آپ کو علم ہو گا کہ ہر ماہ ایک یا دو کیسسز ایسے لازمی آتے ہیں کہ شادی کی پہلی رات درد کی شدت لڑکی برداشت نہیں کر سکی اور اس کی حالت غیر ہو گئی ان “سُورمے ” مردوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ عورت بھی انسان ہے ‏اس کی بیوی بھی کسی کی بہن بیٹی ہے اگر وہ اس عمل سے ابھی یوز ٹو (عادی) نہیں ہو پا رہی تو اسے کچھ وقت دو۔۔۔بے شک چند دن دے دو۔۔لازمی نہیں پہلی رات ہی یہ “ایگزام ” لینا ہی لینا ہے۔۔بندہ خدا! اسے اس عمل کے دوران بالکل ویسا ہی درد ہوتا ہو گا جیسے مار پیٹ کا درد ہو۔۔ہر عورت ہر لڑکی کی جسمانی برداشت الگ الگ ہوتی ہے۔اگر آپ زیادہ تکلیف میں دیکھیں تو رک جائیں۔۔کل سہی۔۔پرسوں سہی۔۔اللہ زندگی رکھے وہ آپ کی اپنی ہے۔۔آپ اس کے تمام حقوق رکھتے ہو۔۔۔آپ سے کس نے کہہ دیا کہ پہلی رات یہ کام کرو گے تو ہی ولیمہ جائز ہو گا یا آپ مرد “گردانے” جاو گے۔۔۔؟تیسری قسم ان لڑکوں کی ہے ‏جو جنسی عمل کے دوران زیادہ دورانیےکو مردانگی گردانتے ہیں۔ان کے نزدیک اگر شادی کی پہلی رات آپ نے جنسی عمل میں ایک گھنٹے سے کم وقت لگایا تو آپ “مرد” ہی نہیں۔۔اور یہ بدقسمتی سے اس مغالطے کا شکار پڑھے لکھے حضرات بھی ہیں۔میرےایک انتہائی قریبی رشتہ دار ساری عمر زنا اور غلط کاریوں میں ‏ملوث رہے۔شادی قریب آئی تو انھیں احساس کمتری ہونا شروع ہو گیا کہ پہلی رات میں ایک منٹ یا اس سے کم وقت میں ہی نزول کا شکار نہ ہو جاوں لہذا اسی پریشر میں انھوں نے نے شادی سے ایک ماہ قبل ایک حکیم سےمعجون لے کر کھانا شروع کیا۔۔ہزاروں روپے بھی لگائے اور شادی کی پہلی رات مسلسل کافی ٹایم ‏منٹ بنت حوا کو اس کی مرضی کے خلاف روندتے رہے،نتیجہ یہ ہوا بیوی کو رات کو تین بجے ہسپتال لے جانا پڑا اور سارے زمانے سے جھوٹ بولنا پڑا کہ اس کے معدے میں درد اٹھا ہےان لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ لازم نہیں لڑکی کو نقطہ سکون تک پہنچانے کے لیے آپ کو جنسی عمل میں زیادہ وقت‏جو جنسی عمل کے دوران زیادہ دورانیےکو مردانگی گردانتے ہیں۔ان کے نزدیک اگر شادی کی پہلی رات آپ نے جنسی عمل میں ایک گھنٹے سے کم وقت لگایا تو آپ “مرد” ہی نہیں۔۔اور یہ بدقسمتی سے اس مغالطے کا شکار پڑھے لکھے حضرات بھی ہیں۔میرےایک انتہائی قریبی رشتہ دار ساری عمر زنا اور غلط کاریوں میں ‏ملوث رہے۔شادی قریب آئی تو انھیں احساس کمتری ہونا شروع ہو گیا کہ پہلی رات میں ایک منٹ یا اس سے کم وقت میں ہی نزول کا شکار نہ ہو جاوں لہذا اسی پریشر میں انھوں نے نے شادی سے ایک ماہ قبل ایک حکیم سےمعجون لے کر کھانا شروع کیا۔۔ہزاروں روپے بھی لگائے اور شادی کی پہلی رات مسلسل کافی ٹایم ‏منٹ بنت حوا کو اس کی مرضی کے خلاف روندتے رہے،نتیجہ یہ ہوا بیوی کو رات کو تین بجے ہسپتال لے جانا پڑا اور سارے زمانے سے جھوٹ بولنا پڑا کہ اس کے معدے میں درد اٹھا ہےان لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ لازم نہیں لڑکی کو نقطہ سکون تک پہنچانے کے لیے آپ کو جنسی عمل میں زیادہ وقت پڑے آپ جنسی عمل سے پہلے بھی بہت سے ” کام ” کر کے اس عمل میں مدد لے سکتے ہو۔چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جن کے نزدیک شادی کی پہلی رات کم از کم پانچ یا چھے بار ایسا عمل کرنا عمر بھر کی بھڑاس نکال دینے کے برابر ہے یا اس سے انھیں اگلی تئیس مارچ پر تمغہ مردانگی ملے گا۔۔ایسے لوگوں کے دوست ‏بھی پھر انہی کی سوچ کے مالک ہوتے ہیں۔۔ولیمے کی صبح صبح دولہے کو دیکھتے ہی ان کا سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے ” ہاں وئی! کنی واری (کتنی بار) اور دولہا بھی کمینگی والی مسکراہٹ کے ساتھ انگلیوں سے تعداد بتائے گا اور بڑھا چڑھا کر بتائے گا۔اس کے نزدیک یہ عزت کا پیمانہ ہے وہ جتنی زیادہ پڑے آپ جنسی عمل سے پہلے بھی بہت سے ” کام ” کر کے اس عمل میں مدد لے سکتے ہو۔چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جن کے نزدیک شادی کی پہلی رات کم از کم پانچ یا چھے بار ایسا عمل کرنا عمر بھر کی بھڑاس نکال دینے کے برابر ہے یا اس سے انھیں اگلی تئیس مارچ پر تمغہ مردانگی ملے گا۔۔ایسے لوگوں کے دوست ‏بھی پھر انہی کی سوچ کے مالک ہوتے ہیں۔۔ولیمے کی صبح صبح دولہے کو دیکھتے ہی ان کا سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے ” ہاں وئی! کنی واری (کتنی بار) اور دولہا بھی کمینگی والی مسکراہٹ کے ساتھ انگلیوں سے تعداد بتائے گا اور بڑھا چڑھا کر بتائے گا۔اس کے نزدیک یہ عزت کا پیمانہ ہے وہ جتنی زیادہ ‏تعداد بتائے گا معاشرے میں اس کی اتنی عزت گردانی جائے گی۔۔اسے سمجھانے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنی بیوی کا لباس ہو۔آپ نے ایسے راز شیئر کر کے بھرے بازار میں اپنی بیوی کو خود بے لباس دیا ہے اور اپنے ہی دوستوں کے ذہن میں اپنی ہی بیوی کے بارے گندگی کا ایک بیج بو دیا ہے۔

‏پانچویں قسم ان لوگوں کی ہے جن کی ساری عمر گندی فلمیں دیکھتے گزری ہے اور ان کے دماغ پر گندی فلموں کے سین سوار رہتے ہیں ۔۔اور انھیں شادی کی پہلی رات کا شدت سے انتظار ہوتا ہے کہ یہ سارے سین “پرفارم” کر کے اپنے آپ کو ” مرد” منوایا جائے۔۔ان لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ان موویز میں ‏میں کام کرنے والے سارے کے سارے پروفیشنل لوگ ہوتے ہیں جو مختلف اور مہنگی ادویات کا سہارہ لے کر لوگوں میں بے راہ روی اور خناس بھر رہے ہیں اور نوٹ چھاپ رہے ہیں۔۔ان مہنگی ادویات کے بغیر وہ بھی عام انسان ہی ہیں کوئی “باہو بلی” نہی ہے۔۔ان کا مقصد نوٹ چھاپنا ہوتا ہے۔۔آپ لوگوں کو ترغیب

‏دینا نہیں کہ اپنی بیوی کو “اکھاڑہ” بنا لو۔۔
بدقسمتی سے ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مائیں اپنی بیٹیوں اور باپ اپنے بیٹوں سے ان معاملات پر بات کرتے شرماتے ہیں ۔۔۔انھیں یہ باتیں ماں باپ نہیں سمجھاتے۔۔مساجد کے امام نہیں سمجھاتے۔ عمر میں بڑے دوست یا پڑھے لکھے دوست نہیں سمجھاتے تو ‏پھر غلط صحبت اپنا اثر دکھاتی ہے۔۔اور انسان چلتا پھرتا جنسی درندہ بن جاتا ہے۔جو بیوی کو بچے پیدا کرنے اور سیکس کی مشین کے سواء کچھ سمجھنے کو تیار ہی نہیں ہوتا،۔ اس امید پر یہ تحریر لکھی ہے کہ اگر ان پانچوں اقسام میں سے کوئی ایک شخص بھی یہ پوسٹ پڑھ کر اپنی سوچ بدل لے تو کسی کی بہن ‏بیٹی “اکھاڑہ” بننے سے بچ جائے گی۔۔یہ بات ذہن میں رکھیے گا کل کو آپ نے بھی بیٹی کا باپ بننا ہے اور بیٹیاں جب کسی کی بیویاں بنتی ہیں تو وہ چاہنے اور پیار کرنے کے لیے ہوتی ہیں “اکھاڑہ” بنانے کے لیے نہیں۔۔بیویوں کو یوں پیار سے رکھیں جیسے کانچ کے برتن رکھے جاتے ہیں

‏امید کرتی ہوں کہ آپکو یہ پڑھ کر ضرور آچھا لگا ہو گا مہربانی کر کے اس پر عمل کرنے کی بھی کوشش کرے اور کمنٹ کر کے بتائیں کہ معاشرے میں یہی سب نہی ہو رہا کیا؟؟ فضول کمنٹ اور بکواس کرنے والے دور رہے شکریہ
محبتوں اور نیک تمناوں کی طلب گار
‎#پری__زاد

ﺩﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﻩ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﺟﻦ ﻛﺎ ﻗﺮﺁﻥﻣﺠﻴﺪ ﻣﻴﮟ ﺫﻛﺮ ﮨﮯ اپنا دل دیکھیں کہ کونسا ھے۔۔۔؟دل کی 13 اقسام

1#=ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﺴﻠﻴﻢ: ﯾﮧ ﻭﻩ ﺧﺎﻟﺺ ﺩﻝ
ﮨﮯ ﺟﻮ ﻛﻔﺮ، ﻧﻔﺎﻕ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ
ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ…
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺸﻌﺮﺍﺀ، ﺍﻵﻳﺔ89:

2#=ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﻨﻴﺐ:
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﻛﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ
ﻣﻴﮟ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ..
ﺳﻮﺭﺓ ﻕ، ﺍﻵﻳﺔ33:

3#=ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﺨﺒﺖ:
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﺟﻬﻜﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﻜﻮﻥ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﺗﺎ
ﮨﮯ…
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺞ، ﺍﻵﻳﺔ54:

4#=ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻮﺟﻞ:
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﻧﯿﮑﯽ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ
ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﻳﺎ ﻧﮩﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ
ﺭﺏ ﻛﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮈﺭﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ…
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻮﻥ، ﺍﻵﻳﺔ60:

5#=ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﺘﻘﯽ:
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻛﮯ ﺷﻌﺎﺋﺮ ﮐﯽ ﺗﻌﻈﻴﻢ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ…
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺞ، ﺍﻵﻳﺔ32:

6#=ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﻬﺪﯼ:
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻛﮯ ﻓﻴﺼﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﻛﻮ ﺑﻬﯽ
ﺑﺨﻮﺷﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮ ﻟﻴﺘﺎ ﮨﮯ…

7#=ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﻄﻤﺌﻦ:
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ
ﺟﺲ ﻛﻮ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﯽ ﺗﻮﺣﻴﺪ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺫﻛﺮ
ﺳﮯ ﮨﯽ ﺳﻜﻮﻥ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ…
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺮﻋﺪ، ﺍﻵﻳﺔ28:

8#=ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﺤﺊ:
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻟﻠّٰﮧ
ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﻛﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺳﻦ ﻛﺮ ﺍﻥ
ﺳﮯ ﻋﺒﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﺤﻴﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ…
ﺳﻮﺭﺓ ﻕ، ﺍﻵﻳﺔ37:

9#=ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﺮﯾﺾ:
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﺷﮏ، ﻧﻔﺎﻕ، ﺑﺪﺍﺧﻼﻗﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺱ ﻭ ﻻﻟﭻ
ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﮯ…
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻻﺣﺰﺍﺏ، ﺍﻵﻳﺔ32:

10#=ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻷﻋﻤﻰ:
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺳﮯ
ﻋﺎﺭﯼ ﮨﮯ، ﺣﺘٰﯽ ﮐﮧ ﺍﻧﺪﮬﺎ ﮨﮯ…
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺞ، ﺍﻵﻳﺔ46:

11#=ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻼﻫﻰ:
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﻗﺮﺁﻥ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺭﻧﮕﯿﻨﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﮕﻦ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ…
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ، ﺍﻵﻳﺔ3:

12#=ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻵﺛﻢ:
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺣﻖ
ﭘﺮ ﭘﺮﺩﮦ ﮈﺍﻝ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﭼﮭﭙﺎﺗﺎ
ﮨﮯ…
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ، ﺍﻵﻳﺔ283:

13#=ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﺘﻜﺒﺮ:
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﻣﺘﮑﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﮐﺶ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ
ﺩﯾﻨﺪﺍﺭﯼ ﭘﺮﮔﮭﻤﻨﮉ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﯾﮧ
ﺩﻝ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺟﺎﺭﺣﯿﺖ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮨﻮﮐﺮ ﺭﮦ
ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ…
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ،

بیت المقدس ( مسجد اقصی )فلسطین کا شہر اور دارالحکومت۔ یہودیوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔ یہاں حضرت سلیمان کا تعمیر کردہ معبد ہے جو بنی اسرائیل کے نبیوں کا قبلہ تھا اور اسی شہر سے ان کی تاریخ وابستہ ہے۔ یہی شہر حضرت عیسٰی کی پیدائش کا مقام ہے اور یہی ان کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ مسلمان تبدیلی قبلہ سے قبل تک اسی کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔

بیت المقدس کو القدس بھی کہتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصٰی اور قبۃ الصخرہ واقع ہیں۔ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریباً 1300 کلومیٹر ہے۔ شہر 31 درجے 45 دقیقے عرض بلد شمالی اور 35 درجے 13 دقیقے طول بلد مشرقی پر واقع ہے۔ بیت اللحم اور الخلیل اس کے جنوب میں اور رام اللہ شمال میں واقع ہے ( رام اللہ کوئی ہندی لفظ نہیں ہے یہ عبرانی لفظ ہے ترجمہ یاد نہیں رہا )
بیت المقدس شہر میں واقع مسجد جسے ‘‘ڈوم اوف راک‘‘ کہتے ہیں۔یروشلم کا عربی نام القدس ہے جسے قدیم مصنفین عام طور پر بیت المَقدِس لکھتے ہیں، دراصل اس سے مراد ہیکل (سلیمانی) تھا جو عبرانی بیت ہمقدش کا ترجمہ ہے لیکن بعد میں اس لفظ کا اطلاق تمام شہر پر ہونے لگا۔
بیت المقدس کو یورپی زبانوں میں Jerusalem (یروشلم) کہتے ہیں۔ “بیت المقدس”سے مراد وہ “مبارک گھر” یا ایسا گھر ہے جس کے ذریعے گناہو ں نے پاک ہوا جاتا ہے۔ پہلی صدی ق م میں جب رومیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو انہوں نے اسے ایلیا کا نام دیا تھا۔
بیت المقدس پہاڑیوں پر آباد ہے اور انہی میں سے ایک پہاڑی کا نام کوہ صیہون ہے جس پر مسجد اقصٰی اور قبۃ الصخرہ واقع ہیں۔ کوہ صیہون کے نام پر ہی یہودیوں کی عالمی تحریک صیہونیت قائم کی گئی۔
قدیم تاریخ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بھتیجے لوط علیہ السلام نے عراق سے بیت المقدس کی طرف ہجرت کی تھی۔ 620ء میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جبریل امین کی رہنمائی میں مکہ سے بیت المقدس پہنچے اور پھر معراج آسمانی کے لیے تشریف لے گئے۔
حضرت یعقوب علیہ السلام نے وحی الٰہی کے مطابق مسجد بیت المقدس (مسجد اقصٰی) کی بنیاد ڈالی اور اس کی وجہ سے بیت المقدس آباد ہوا۔ پھر عرصہ دراز کے بعد حضرت سليمان علیہ السلام (961 ق م) کے حکم سے مسجد اور شہر کی تعمیر اور تجدید کی گئی۔ اس لیے یہودی مسجد بیت المقدس کو ہیکل سلیمانی کہتے ہیں۔
ہیکل سلیمانی اور بیت المقدس کو 586 ق م میں شاہ بابل (عراق) بخت نصر نے مسمار کر دیا تھا اور ایک لاکھ یہودیوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ عراق لے گیا۔ بیت المقدس کے اس دور بربادی میں حضرت عزیر علیہ السلام کا وہاں سے گذر ہوا، انہوں نے اس شہر کو ویران پایا تو تعجب ظاہر کیا کہ کیا یہ شہر پھر کبھی آباد ہوگا؟ اس پر اللہ نے انہیں موت دے دی اور جب وہ سو سال بعد اٹھائے گئے تو یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ بیت المقدس پھر آباد اور پر رونق شہر بن چکا تھا۔
بخت نصر کے بعد 539 ق م میں شہنشاہ فارس روش کبیر (سائرس اعظم) نے بابل فتح کر کے بنی اسرائیل کو فلسطین واپس جانے کی اجازت دے دی۔ یہودی حکمران ہیرود اعظم کے زمانے میں یہودیوں نے بیت المقدس شہر اور ہیکل سلیمانی پھر تعمیر کر لیے۔ یروشلم پر دوسری تباہی رومیوں کے دور میں نازل ہوئی۔ رومی جرنیل ٹائٹس نے 70ء میں یروشلم اور ہیکل سلیمانی دونوں مسمار کر دیے۔
137 ق م میں رومی شہنشاہ ہیڈرین نے شوریدہ سر یہودیوں کو بیت المقدس اور فلسطین سے جلا وطن کر دیا۔ چوتھی صدی عیسوی میں رومیوں نےعیسائیت قبول کر لی اور بیت المقدس میں گرجے تعمیر کیے۔
مسلم تاریخ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معراج کو جاتے ہوئے بیت المقدس پہنچے،2ھ بمطابق 624ء تک بیت المقدس ہی مسلمانوں کا قبلہ تھا، حتی کہ حکم الٰہی کے مطابق کعبہ (مکہ) کو قبلہ قرار دیا گیا۔ 17ھ یعنی 639ء میں عہد فاروقی میں عیسائیوں سے ایک معاہدے کے تحت بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔ خلیفہ عبد الملک کے عہد میں یہاں مسجد اقصٰی کی تعمیر عمل میں آئی اور صخرہ معراج پر قبۃ الصخرہ بنایا گیا۔
1099ء میں پہلی صلیبی جنگ کے موقع پر یورپی صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے 70 ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو عیسائیوں کے قبضے سے چھڑایا۔
جدید تاریخ اور یہودی قبضہ پہلی جنگ عظیم دسمبر 1917ء کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کر کے یہودیوں کو آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔ یہود و نصاریٰ کی سازش کے تحت نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دھاندلی سے کام لیتے ہوئے فلسطین اور عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا اور جب 14 مئی 1948ء کو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا تو پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔ اس کے جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی فلسطین کے 78 فیصد رقبے پر قابض ہو گئے، تاہم مشرقی یروشلم (بیت المقدس) اور غرب اردن کے علاقے اردن کے قبضے میں آ گئے۔ تیسری عرب اسرائیل جنگ (جون 1967ء) میں اسرائیلیوں نے بقیہ فلسطین اور بیت المقدس پر بھی تسلط جما لیا۔ یوں مسلمانوں کا قبلہ اول ہنوز یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ یہودیوں کے بقول 70ء کی تباہی سے ہیکل سلیمانی کی ایک دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے جہاں دو ہزار سال سے یہودی زائرین آ کر رویا کرتے تھے اسی لیےاسے “دیوار گریہ” کہا جاتا ہے۔ اب یہودی مسجد اقصٰی کو گرا کو ہیکل تعمیر کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ اسرائیل نے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت بھی بنا رکھا ہے۔
مسجد اقصی
مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔
مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا الحرم القدسی الشریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔
قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالی نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالی ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے (سورہ الاسراء آیت نمبر 1) “
احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث مروی ہے کہ
” میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟
تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسجد حرام ( بیت اللہ ) تو میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسی ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : مسجد اقصیٰ ، میں نے سوال کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چالیس سال، پھرجہاں بھی تمہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لو کیونکہ اسی میں فضیلت ہے ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 3366، صحیح مسلم حدیث نمبر 520)

مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے اور معراج میں نماز کی فرضیت 16 سے 17 ماہ تک مسلمان مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔
مسلم تعمیرات — جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔
[ترمیم] مسجد اقصیٰ و قبۃ الصخرۃمسجد اقصی کے نام کا اطلاق پورے حرم قدسی پر ہوتا تھا جس میں سب عمارتیں جن میں اہم ترین قبۃ الصخرۃ ہے جواسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونوں میں شامل ہے ۔ تاہم آجکل یہ نام حرم کے جنوبی جانب والی بڑی مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔
وہ مسجد جو کہ نماز کی جگہ ہے وہ قبۃ الصخرۃ نہیں، لیکن آج کل قبہ کی تصاویر پھیلنے کی بنا پر اکثر مسلمان اسے ہی مسجد اقصیٰ خیال کرتے ہيں حالانکہ فی الواقع ایسی کوئی بات نہیں مسجد تو بڑے صحن کے جنوبی حصہ میں اور قبہ صحن کے وسط میں ایک اونچی جگہ پر واقع ہے۔
زمانہ قدیم میں مسجد کا اطلاق پورے صحن پرہو تا تھا اور اس کی تائيد امام ابن تیمیہ کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے کہ:
” مسجد اقصی اس ساری مسجد کا نام ہے جسے سليمان علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا ، اور بعض لوگ اس مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو جسے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نےاس کی اگلی جانب تعمیر کیا تھا اقصی کا نام دینے لگے ہیں ، اس جگہ میں جسے عمربن خطاب رضي اللہ تعالی عنہ نے تعمیر کیا تھا نمازپڑھنا باقی ساری مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ “
سانحہ بیت المقدس21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگادی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔ ۔ صلاح الدین نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں اور ہر جنگ کے دوران وہ اس منبر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تا کہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں گے۔
اس المناک واقعہ کے بعد خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحے کے لئے بیدار ہوئی اور سانحے کے تقریبا ایک ہفتے بعد اسلامی ممالک نے موتمر عالم اسلامی (او آئی سی) قائم کر دی۔ تاہم 1973ء میں پاکستان کے شہر لاہور میں ہونے والے دوسرے اجلاس کے بعد سے 56 اسلامی ممالک کی یہ تنظیم غیر فعال ہوگئی۔
یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔
اسرائیل بیت المقدس(یروشلم) کو اپنا دارالخلافہ قرار دیتا ہے لیکن عالمی برادری کا موقف ہے کہ شہر کی شناخت کا معاملہ امن مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے جبکہ فلطسین اسرائیل کے قبضے کو غیرقانونی قرار دیتا ہے۔فلطسین بیت المقدس کو اپنا دارالخلافہ قرار دیتا ہے جہاں اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا۔

عزیز / معزز شہریپاکستاناگر اس ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہو تو پھر یہ جنگ آپکو لڑناہو گی

آپ کے فائدے کے لئے ایک درخواست، موصول ہوئی ہے ..

آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس میسج کو پڑھیں اور اگر آپ اتفاق کرتے ہیں تو اپنی کنٹیکٹ لسٹ میں کم ازکم 20 افراد کو لازمی سینڈ کریں اور بعد میں ان کی رائے لیں.

تین دنوں میں، پاکستان میں زیادہ تر لوگ یہ پیغام پڑھ لیں گے ۔

پاکستان میں ہر شہری کو آواز بلند کرنا چاہئے.
2020 کی اصلاحات ایکٹ

  1. پارلیمنٹ کے ارکان کو پنشن نہیں ملنا چاہئے کیوں کہ یہ نوکری نہیں ہے بلکہ یہ لوگوں کی خدمت کے جذبے کے تحت ایک انتخاب ہے اور اس کے لئے ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی ہے مزید یہ کہ سیاستدان دوبارہ سے سیلیکٹ ہو کے اس پوزیشن پر آسکتے ہیں
  2. مرکزی تنخواہ کمیشن کے تحت پارلیمنٹ کے افراد کی تنخواہ میں ترمیم کرنا چاہئے. ان کی تنخواہ ایک عام مزدور کے برابر ہونی چاہیئے

(فی الحال، وہ اپنی تنخواہ کے لئے خود ہی ووٹ ڈالتے ہیں اور اپنی مرضی سے من چاہا اضافہ کر لیتے ہیں

  1. ممبران پارلمنٹ کو اپنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے سرکاری ہسپتال میں ہی علاج کی سہولت لینا لازم ہو جہاں عام پاکستانی شہریوں کا علاج ہوتا ہے
  2. تمام رعایتیں جیسے مفت سفر، راشن، بجلی، پانی، فون بل ختم کیا جائے یا یہ ہی تمام رعایتیں پاکستان کے ہر شہری کو بھی لازمی دی جائیں

(وہ نہ صرف یہ رعایت حاصل کرتے ہیں بلکہ ان کا پورا خاندان ان کو انجوائے کرتا ہے اور وہ باقاعدہ طور پر اس میں اضافہ کرتے ہیں – جوکہ سرا سر بدمعاشی اور بے شرمی بےغیرتی کی انتہا ہے.)

  1. پارلیمنٹ ممبران کو عام پبلک پر لاگو ہونے والے تمام قوانین کی پابندیوں پر عمل لازمی ہونا چاہئے.
  2. اگر لوگوں کو گیس بجلی پانی پر سبسڈی نہیں ملتی تو
    پارلیمنٹ کینٹین میں سبسایڈڈ فوڈ کسی ممبران پارلیمان کو نہیں ملنی چائیے
  3. ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سیاستدانوں کے لئے بھی ہونا چاہئے. اور میڈیکل ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہونا چاہئے اگر میڈیکلی ان فٹ ہو تو بھی انتخاب میں حصہ لینے کا اہل نہیں ہے
  • پارلیمان میں خدمت کرنا ایک اعزاز ہے، لوٹ مار کے لئے منافع بخش کیریئر نہیں *
  1. ان کی تعلیم کم از کم ماسٹرز ہونی چاہئے اور دینی تعلیم بھی اعلیٰ ہونی چاہیئے اور پروفیشنل ڈگری اور مہارت بھی حاصل ہو
    اور NTS ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہو.
  2. ان کے بچے بھی لازمی سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کریں
  3. سیکورٹی کے لیے کوئی گارڈز رکھنے کی اجازت نہ ہو